“February 12 history”
12 فروری دنیا کی تاریخ کا ایک اہم دن سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس تاریخ میں کئی بڑے سیاسی، سائنسی اور سماجی واقعات رونما ہوئے جنہوں نے عالمی تاریخ کا رخ بدلنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ صدیوں پر محیط یہ دن نہ صرف آزادی کی تحریکوں اور انقلابی تبدیلیوں کا گواہ ہے بلکہ یہ عظیم شخصیات کی پیدائش کی وجہ سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے 12 فروری کو عالمی سطح پر تاریخ، سائنس اور انسانی حقوق کے حوالے سے ایک منفرد مقام حاصل ہے۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو 1541 میں اسی دن ہسپانوی فاتح پیڈرو ڈی ویلڈویا نے جنوبی امریکہ کے اہم شہر سانتیاگو کی بنیاد رکھی جو بعد میں چلی کا دارالحکومت بنا اور آج ایک اہم اقتصادی مرکز ہے۔ اسی طرح 1733 میں انگلینڈ کی امریکی کالونی جارجیا میں پہلی مرتبہ باقاعدہ آبادکاری کا آغاز ہوا جو بعد میں ریاست جارجیا کی شکل میں سامنے آئی۔ یہ دونوں واقعات اس بات کی علامت ہیں کہ 12 فروری دنیا کے نقشے پر نئی آبادیاں اور سیاسی تبدیلیاں لانے والا دن رہا ہے۔
آزادی کی تحریکوں کے حوالے سے بھی یہ دن اہمیت رکھتا ہے کیونکہ 1818 میں جنوبی امریکہ کے ملک چلی نے اسپین سے آزادی حاصل کی۔ یہ آزادی کئی سالہ جدوجہد کے بعد ملی اور اس نے پورے خطے میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کی تحریکوں کو مضبوط کیا۔ اسی طرح 1912 میں چین میں ایک عظیم سیاسی انقلاب آیا جس کے نتیجے میں تقریباً دو ہزار سال پرانی بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا اور جمہوریہ چین قائم ہوئی۔ چین کے آخری شہنشاہ پُوئی کے تخت چھوڑنے کے بعد یہ تبدیلی ایشیا کی سیاسی تاریخ کا ایک بڑا سنگ میل ثابت ہوئی۔“February 12 history”
عالمی جنگوں اور سیاست کے تناظر میں بھی 12 فروری ایک اہم دن ہے۔ 1934 میں آسٹریا میں خانہ جنگی شروع ہوئی جس نے یورپ میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ اسی طرح 1947 میں فرانس نے اعلان کیا کہ وہ انڈوچائنا یعنی موجودہ ویتنام، کمبوڈیا اور لاؤس کو خودمختاری دے گا۔ اس اعلان نے بعد میں خطے میں بڑی جنگوں اور سیاسی کشمکش کی بنیاد رکھی۔ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ 12 فروری عالمی طاقتوں کے توازن اور سیاسی تبدیلیوں کا اہم دن رہا ہے۔
سائنسی اور خلائی ترقی کے حوالے سے بھی اس دن کو تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ 1961 میں سوویت یونین نے پہلی بار سیارہ زہرہ کیلئے خلائی مشن روانہ کیا جو انسانی خلائی تحقیق کا ایک بڑا سنگ میل تھا۔ بعد ازاں 2001 میں ناسا کے خلائی جہاز نیئر شو میکر نے پہلی مرتبہ کسی سیارچے پر کامیاب لینڈنگ کی جس نے خلائی سائنس میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔ یہ کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ 12 فروری انسانی علم اور تحقیق کی پیش رفت کا بھی اہم دن رہا ہے۔
کھیلوں کی دنیا میں بھی اس دن کو اہمیت حاصل ہے کیونکہ 1994 میں ناروے کے شہر لیلّیہامر میں سرمائی اولمپکس کا آغاز ہوا جو اپنی بہترین تنظیم اور جدید سہولیات کی وجہ سے تاریخ کے کامیاب ترین اولمپکس میں شمار کیے جاتے ہیں۔
یہ دن عظیم شخصیات کی پیدائش کی وجہ سے بھی دنیا بھر میں یاد رکھا جاتا ہے۔ 12 فروری 1809 کو امریکہ کے 16ویں صدر ابراہم لنکن پیدا ہوئے جنہوں نے امریکی خانہ جنگی کے دوران غلامی کے خاتمے اور جمہوری اقدار کے فروغ میں تاریخی کردار ادا کیا۔ اسی دن مشہور برطانوی سائنسدان چارلس ڈارون بھی پیدا ہوئے جنہوں نے نظریہ ارتقاء پیش کر کے سائنس کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ پاکستان کے لیجنڈ کرکٹر جاوید میانداد کی پیدائش بھی اسی تاریخ کو ہوئی جنہوں نے پاکستان کرکٹ کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
12 فروری کو کئی اہم شخصیات کا انتقال بھی ہوا جن میں جرمن فلسفی امانوئیل کانٹ اور عالمی شہرت یافتہ مصور سلواڈور دالی شامل ہیں، جن کی خدمات آج بھی دنیا بھر میں یاد کی جاتی ہیں۔
عالمی سطح پر یہ دن ڈارون ڈے کے طور پر بھی منایا جاتا ہے جس کا مقصد سائنس، تحقیق اور علم کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ اسی طرح ریڈ ہینڈ ڈے بھی اسی تاریخ کو منایا جاتا ہے تاکہ جنگوں میں بچوں کے استعمال کے خلاف عالمی شعور بیدار کیا جا سکے۔
پاکستان میں اگرچہ 12 فروری کوئی سرکاری قومی دن نہیں ہے تاہم یہ سیاسی اور تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ مختلف ادوار میں اس دن اہم پارلیمانی اجلاس اور حکومتی فیصلے سامنے آتے رہے جبکہ تعلیمی اداروں میں بھی اس تاریخ کو سرگرمیوں کی وجہ سے اہمیت حاصل رہی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 12 فروری تاریخ کا ایک ایسا دن ہے جس میں سیاست، سائنس، آزادی کی تحریکوں اور انسانی حقوق کے کئی اہم ابواب رقم ہوئے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی تقدیر بدلنے کیلئے ایک دن بھی کافی ہوتا ہے اگر اس دن بڑے فیصلے اور انقلابی اقدامات کیے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ 12 فروری کو عالمی تاریخ میں ہمیشہ ایک یادگار اور اہم دن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔