Israel-US dominance 2026 vs BRICS and Muslim World Strategic Power 2026
Israel-US dominance 2026
اگر دنیا کی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال پر غور کریں تو یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اسرائیل اور امریکہ کے مقابلے میں کوئی طاقت باقی نہیں رہی۔ آج اسرائیل کی جارحیت اور امریکہ کی عسکری و معاشی پشت پناہی بظاہر ایک ناقابل شکست قوت کے طور پر سامنے آ رہی ہے، جس نے پورے خطے پر اپنا اثر قائم کر رکھا ہے۔ لیکن حقیقت میں اس منظرنامے کے پیچھے کچھ ایسے عوامل بھی موجود ہیں جو اس تسلط کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ ان میں روس اور چین کی بڑھتی ہوئی طاقت، برکس جیسے عالمی معاشی اتحاد، غیر ریاستی مزاحمت، اور مسلم ممالک کی ممکنہ مشترکہ حکمت عملی شامل ہیں۔
روس اور چین نے حالیہ برسوں میں ایک ایسا اتحاد قائم کیا ہے جو امریکی یک قطبی دنیا کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ چین نے اپنی اقتصادی طاقت اور بیلٹ اینڈ روڈ جیسے منصوبوں کے ذریعے افریقہ سے وسطی ایشیا تک اپنا اثر بڑھایا ہے، اور وہ براہِ راست عسکری ٹکراؤ کے بجائے معاشی دباؤ کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے۔ دوسری طرف روس کی عسکری طاقت اور ایٹمی صلاحیت اب بھی عالمی طاقتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً شام اور ایران میں روس کی موجودگی امریکی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنی ہوئی ہے۔ حالیہ برسوں میں ایران پر ہونے والے حملوں کے خلاف روس اور چین کے سخت موقف نے واضح کر دیا ہے کہ وہ خطے میں طاقت کا توازن صرف اسرائیل اور امریکہ کے حق میں نہیں دیکھنا چاہتے۔
امریکہ کی عالمی طاقت کی بنیاد ڈالر کی پوزیشن پر ہے۔ لیکن برکس ممالک، بشمول برازیل، روس، انڈیا، چین اور اب سعودی عرب و متحدہ عرب امارات، مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھا کر ڈالر کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ عمل امریکی "ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس” کے لیے چیلنج پیدا کرتا ہے، کیونکہ امریکی فوجی مہمات کی مالی معاونت زیادہ تر ڈالر کی طاقت پر منحصر ہے۔ اگر ڈالر کی عالمی مانگ کم ہو گئی تو امریکہ کے لیے اپنی دفاعی صنعت کو برقرار رکھنا اور اسرائیل جیسے اتحادیوں کو اربوں ڈالر کی امداد فراہم کرنا مشکل ہو جائے گا۔
مسلم ممالک کا کردار اس پورے منظرنامے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے، اب تک مسلم دنیا نے متحد اور فیصلہ کن رویہ اختیار کرنے کے بجائے ذاتی اور محتاط پالیسیاں اپنائی ہیں۔ مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنی تزویراتی خودمختاری مضبوط کریں، اپنے قدرتی وسائل جیسے تیل اور گیس کو عالمی سطح پر سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کریں، اور خطے میں اپنی مشترکہ دفاعی و اقتصادی طاقت کو بڑھائیں۔ اگر مسلم ممالک متحد ہو کر مغربی ممالک کو توانائی کی فراہمی مشروط کر دیں تو عالمی دارالحکومتوں میں سنجیدہ ردعمل پیدا ہوگا۔
او آئی سی کو محض بیانات دینے والے ادارے کے بجائے ایک فعال دفاعی اور اقتصادی بلاک میں تبدیل کرنا ہوگا۔ مسلم ممالک کو مشترکہ دفاعی نظام، مشترکہ مارکیٹ اور معاشی خودمختاری اختیار کرنی ہوگی تاکہ وہ امریکہ پر مکمل انحصار سے آزاد ہو سکیں۔ یہ اقدامات نہ صرف اسرائیل کی جارحیت کو محدود کریں گے بلکہ مسلم ممالک کی بین الاقوامی حیثیت بھی مضبوط کریں گے۔
Israel-US dominance 2026
اقوام متحدہ کا موجودہ کردار کافی حد تک ناکام اور بڑی طاقتوں کے مفادات تک محدود ہو چکا ہے۔ سلامتی کونسل میں امریکہ کے بار بار ویٹو پاور کے استعمال سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ موجودہ ڈھانچہ انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ جنرل اسمبلی کو زیادہ اختیارات دینے اور ویٹو کے حق کو محدود کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اکثریت کی رائے کو تسلیم کیا جا سکے۔ اگر موجودہ عالمی ادارے اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہیں تو مسلم ممالک اور ابھرتی ہوئی طاقتیں ایک متوازی فورم قائم کر سکتی ہیں جو انصاف اور برابری پر مبنی ہو۔Israel-US dominance 2026
اس فتنے کو روکنے کے لیے تین محاذوں پر یکساں حکمت عملی ضروری ہے: معاشی دباؤ، عسکری خودمختاری، اور عوامی رائے عامہ کے ذریعے شعور پیدا کرنا۔ مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ غیر ملکی فوجی اڈوں کو ختم کریں، دفاع کے لیے روس اور چین جیسے متبادل مراکز پر بھروسہ کریں، اور عوامی شعور کے ذریعے مظالم کے خلاف دباؤ پیدا کریں۔ جب یہ تمام عوامل ایک نقطے پر جمع ہوں گے تو اسرائیل اور امریکہ کی بالادستی کو کمزور کرنا ممکن ہو جائے گا۔Israel-US dominance 2026
تاریخ واضح کرتی ہے کہ کوئی بھی سلطنت یا عالمی طاقت ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔ زوال اس وقت شروع ہوتا ہے جب ظلم حد سے بڑھ جائے اور نئی متبادل طاقتیں ابھرنا شروع ہو جائیں۔ اسرائیل اور امریکہ کی موجودہ طاقت ناقابل شکست نہیں، بلکہ یہ عالمی نظم کے بحران کی علامت ہے۔ چین کی معیشت، روس کی عسکری مزاحمت، برکس کے مالیاتی اقدامات، غیر ریاستی عناصر کی مزاحمت اور مسلم ممالک کے ممکنہ اتحاد کے امتزاج سے ایک نیا عالمی توازن پیدا ہو سکتا ہے۔Israel-US dominance 2026
موجودہ جیو پولیٹیکل منظرنامہ ایک نازک اور فیصلہ کن موڑ پر ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی بالادستی کو روکنے کے لیے صرف عسکری اقدامات کافی نہیں، بلکہ معاشی دباؤ، سفارتی یکجہتی اور عوامی شعور کو یکجا کرنا ہوگا۔ مسلم ممالک، برکس ممالک اور ابھرتی ہوئی عالمی طاقتیں مل کر ایک متوازن، انصاف پر مبنی اور کثیر قطبی دنیا قائم کر سکتی ہیں، جہاں طاقت کے بجائے انصاف اور مساوات حکمرانی کرےIsrael-US dominance 2026
۔