"Thirst in Chakwal: Every Drop Matters"

chakwal Water Shortage Hits Chakwal Inner City

چکوال کے اندرونِ شہر کی گلیاں، جو کبھی زندگی، رونق اور کاروبار کا مرکز ہوا کرتی تھیں، آج پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہی ہیں۔ محلہ پرانی سبزی منڈی، صرافہ بازار، سنہری مسجد اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ پانچ دنوں سے واٹر سپلائی کا نظام تقریباً مفلوج ہو چکا ہے، جس کے باعث ہزاروں شہری شدید اذیت اور ذہنی کرب کا شکار ہیں۔ گھروں کے نل خشک ہیں، پانی کی ٹینکیاں خالی پڑی ہیں اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو کر رہ گئی ہے۔

یہ قلت محض ایک تکنیکی خرابی نہیں بلکہ ایک سنگین انتظامی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس نے شہریوں کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے کہ آخر سالانہ بل ادا کرنے کے باوجود انہیں بنیادی انسانی ضرورت سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے؟

chakwal Water Shortage

بوند بوند کی تلاش میں شہری

اندرون شہر کے یہ علاقے تاریخی حیثیت کے حامل ہیں، جہاں کاروبار، عبادت گاہیں، رہائشی مکانات اور چھوٹے بازار ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ مگر آج یہی علاقے پانی کے بغیر ایک بنجر تصویر بن چکے ہیں۔ گھریلو خواتین کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے، جو برتن دھونے، کھانا پکانے، بچوں کی صفائی اور وضو کے لیے پانی کے حصول میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

chakwal Water Shortage

صرافہ بازار کے تاجر حاجی عبدالرؤف کا کہنا تھا:
“کاروبار متاثر ہو رہا ہے، دکانوں میں صفائی ممکن نہیں، گاہک بدبو اور گندگی سے تنگ آ کر واپس چلے جاتے ہیں۔ یہ شہر کے دل کی بات ہے، مگر یہاں کسی کو پروا نہیں۔”

بوند بوند کی تلاش – شہریوں کی مجبوری

پانی نہیں، زندگی رک گئی

پانی کی عدم دستیابی نے صرف گھریلو معاملات ہی نہیں بلکہ عبادات کو بھی متاثر کیا ہے۔ سنہری مسجد اور گردونواح کی مساجد میں نمازیوں کو وضو کے لیے متبادل انتظامات کرنا پڑ رہے ہیں۔ کئی نمازی گھروں سے بوتلوں میں پانی لا رہے ہیں، جبکہ بعض مساجد میں محدود مقدار میں ذخیرہ شدہ پانی سے کام چلایا جا رہا ہے۔

ایک بزرگ نمازی نے رنجیدہ لہجے میں کہا:
“نماز تو اللہ کے لیے ہے، مگر وضو کے بغیر نماز کیسے ادا کریں؟ مسجد میں بھی پانی نہیں، یہ کس دور کی تصویر ہے؟”

پانی نہیں، زندگی رک گئی

بل ادا، سہولت غائب

اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ وہ باقاعدگی سے واٹر سپلائی کے سالانہ بل ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں اس بنیادی سہولت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق کئی گھروں میں واٹر سپلائی کا کنکشن قانونی اور رجسٹرڈ ہے، مگر پھر بھی پانی کی فراہمی معطل ہے، جو سراسر ناانصافی اور انتظامی غفلت کا ثبوت ہے۔

علاقہ مکینوں نے شکوہ کیا کہ اگر بل کی ادائیگی میں ایک دن کی تاخیر ہو جائے تو نوٹس بھیج دیے جاتے ہیں، مگر جب پانی کی سپلائی بند ہو جائے تو کوئی جواب دہی نہیں ہوتی۔chakwal Water Shortage

بل ادا، سہولت غائب

شکایات، مگر کوئی شنوائی نہیں

متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار متعلقہ محکموں، واٹر سپلائی دفاتر اور ذمہ داران سے رابطہ کیا، مگر ہر بار انہیں ٹال مٹول سے کام لیا گیا۔ کبھی پائپ لائن میں خرابی کا بہانہ بنایا گیا، کبھی بجلی کی بندش کو وجہ قرار دیا گیا، مگر عملی طور پر مسئلہ جوں کا توں ہے۔

ایک شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:
“فون اٹھایا ہی نہیں جاتا، اور اگر کوئی جواب دے بھی دے تو کہتا ہے ‘کل دیکھتے ہیں’۔ مگر یہ کل کبھی نہیں آتا۔”

شکایات، مگر کوئی شنوائی نہیں

اندرون شہر، مستقل محرومی

اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ اندرون شہر کے علاقے طویل عرصے سے مختلف بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ خراب سڑکیں، ناقص سیوریج نظام، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور اب پانی کی قلت—یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ علاقے انتظامی توجہ سے محروم ہیں۔

شہریوں کے مطابق نئے رہائشی علاقوں میں سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ پرانے شہر کو دانستہ نظر انداز کیا جا رہا ہے، حالانکہ یہی علاقے چکوال کی شناخت اور تاریخ chakwal Water Shortageکا حصہ ہیں۔

اندرون شہر، مستقل محرومی

صحت عامہ کو لاحق خطرات

ماہرین کے مطابق پانی کی طویل قلت صحت عامہ کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ صفائی کے ناقص انتظامات سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کے لیے یہ صورتحال نہایت خطرناک ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صاف پانی کی عدم دستیابی سے جلدی امراض، معدے کی بیماریاں اور انفیکشنز بڑھ سکتے ہیں، جس کا براہ راست بوجھ ہسپتالوں پر پڑے گا۔

صحت عامہ کو لاحق خطرات

انتظامیہ سے فوری نوٹس کا مطالبہ

متاثرہ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر چکوال سارہ حیات اور اسسٹنٹ کمشنر چکوال ذیشان شریف قیصرانی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیں، واٹر سپلائی کی بحالی کو یقینی بنائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے، کیونکہ پانی کے بغیر زندگی کا پہیہ نہیں چل سکتا۔

انتظامیہ سے فوری نوٹس کا مطالبہ

سوال جو جواب مانگتے ہیں

یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے:

  • اگر پانی موجود نہیں تو بل کیوں وصول کیے جا رہے ہیں؟
  • اندرون شہر کو ترقیاتی منصوبوں سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے؟
  • کیا واٹر سپلائی نظام بوسیدہ ہو چکا ہے، یا بدانتظامی اصل مسئلہ ہے؟
  • عوام کی شکایات پر کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب انتظامیہ کو دینے ہوں گے۔

سوال جو جواب مانگتے ہیں

مستقل حل کی ضرورت

شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ عارضی مرمت یا وقتی بحالی نہیں چاہتے بلکہ ایک مستقل اور پائیدار حل چاہتے ہیں۔ واٹر سپلائی لائنوں کی مکمل جانچ، پرانی پائپ لائنوں کی تبدیلی، شفاف نگرانی اور شکایات کے فوری ازالے کا نظام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

مستقل حل کی ضرورت

حرفِ آخر

چکوال کے اندرون شہر میں پانی کی قلت صرف ایک سہولت کی کمی نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حق پر سوال ہے۔ یہ بحران اگر فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو نہ صرف عوامی بے چینی بڑھے گی بلکہ انتظامیہ پر اعتماد بھی مجروح ہو گا۔

حرفِ آخر

www.paktodaynews.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے