eye health tips
انسانی زندگی میں آنکھوں کی اہمیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آنکھیں ہمیں اس قابل بناتی ہیں کہ ہم اپنے اردگرد کی دنیا کو دیکھ سکیں، لوگوں کو پہچان سکیں، پڑھ لکھ سکیں اور روزمرہ کے بے شمار کام بآسانی انجام دے سکیں۔ اگر بینائی متاثر ہو جائے تو زندگی کی رفتار بھی سست پڑنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد اپنی نظر کی کمزوری کو دور کرنے کے لیے عینک یا کانٹیکٹ لینز کا سہارا لیتے ہیں۔ طبی ماہرین بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو نظر کی کمزوری کا مسئلہ درپیش ہو تو اسے لازمی طور پر ماہرِ امراضِ چشم سے معائنہ کروا کر درست نمبر کی عینک استعمال کرنی چاہیے۔eye health tips
آج کے دور میں نظر کی کمزوری ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ کچھ لوگوں کو قریب کی چیزیں واضح نظر نہیں آتیں جبکہ بعض افراد دور کی اشیا کو صاف طور پر نہیں دیکھ پاتے۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں کو دونوں طرح کے مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں ڈاکٹر مریض کی آنکھوں کا تفصیلی معائنہ کرتے ہیں اور اس کی بینائی کے مطابق عینک کا مخصوص نمبر تجویز کرتے ہیں تاکہ آنکھوں کو صحیح طریقے سے فوکس کرنے میں مدد مل سکے۔ درست نمبر کی عینک نہ صرف دیکھنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے بلکہ انسان کے اعتماد اور روزمرہ کی کارکردگی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔eye health tips
تاہم بعض لوگ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر یا پرانی عینک کے نمبر پر ہی اکتفا کرتے رہتے ہیں۔ کچھ افراد کسی دوسرے کی عینک آزمانے لگتے ہیں یا بغیر معائنے کے بازار سے تیار شدہ چشمہ خرید کر استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی سی بات محسوس ہوتی ہے، مگر درحقیقت غلط نمبر کی عینک کا مسلسل استعمال آنکھوں کے لیے کئی طرح کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔eye health tips
طبی ماہرین کے مطابق آنکھوں کی صحت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ دونوں آنکھیں آپس میں ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں۔ جب ہم کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو دونوں آنکھیں ایک ہی وقت میں اس پر فوکس کرتی ہیں اور دماغ ان دونوں سے موصول ہونے والی معلومات کو یکجا کر کے ایک واضح تصویر بناتا ہے۔ اگر عینک کا نمبر درست نہ ہو تو یہ قدرتی توازن متاثر ہونے لگتا ہے۔ نتیجتاً آنکھوں کو واضح تصویر بنانے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے اور یہی اضافی محنت مختلف جسمانی علامات کا سبب بن سکتی ہے۔eye health tips
غلط نمبر کی عینک پہننے کا سب سے پہلا اثر آنکھوں کی تھکن کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب آنکھوں کو کسی چیز کو واضح طور پر دیکھنے کے لیے غیر معمولی کوشش کرنی پڑتی ہے تو آنکھوں کے پٹھے تھکنے لگتے ہیں۔ اس کے باعث انسان کو آنکھوں میں بوجھ یا جلن محسوس ہونے لگتی ہے۔ بعض افراد کو ایسا لگتا ہے جیسے آنکھوں پر دباؤ بڑھ گیا ہو یا نظر بار بار دھندلا رہی ہو۔eye health tips
اس کے علاوہ سر درد بھی غلط نمبر کی عینک کے عام اثرات میں شامل ہے۔ جب آنکھیں مسلسل دباؤ میں رہتی ہیں تو یہ دباؤ اعصاب کے ذریعے سر تک منتقل ہو جاتا ہے جس سے سر میں درد یا بھاری پن محسوس ہونے لگتا ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو زیادہ دیر تک کمپیوٹر، موبائل یا کتاب کا استعمال کرتے ہیں، ان میں یہ مسئلہ زیادہ شدت سے سامنے آ سکتا ہے۔eye health tips
غلط عینک کی وجہ سے ایک اور مسئلہ یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو اشیا کو پہچاننے یا فاصلے کا اندازہ لگانے میں مشکل پیش آنے لگتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص گاڑی چلا رہا ہو اور اس کی عینک کا نمبر درست نہ ہو تو اسے سڑک کے اشارے یا دور موجود گاڑیوں کو صحیح طور پر دیکھنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ اسی طرح روزمرہ زندگی میں لوگوں کو پہچاننا، بورڈ پڑھنا یا چھوٹی تحریر دیکھنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔eye health tips
بعض افراد کو غلط نمبر کی عینک کے استعمال کے نتیجے میں چکر آنے یا توازن بگڑنے کا احساس بھی ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ جب آنکھوں کو درست تصویر نہیں ملتی تو دماغ کو بھی واضح معلومات موصول نہیں ہوتیں، جس سے جسم کے توازن پر اثر پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ ایسی عینک پہننے کے بعد خود کو غیر آرام دہ محسوس کرتے ہیں۔eye health tips
غلط نمبر کی عینک کی وجہ سے توجہ میں کمی بھی واقع ہو سکتی ہے۔ جب نظر بار بار دھندلا جائے یا آنکھوں میں تھکن محسوس ہو تو انسان کسی کام پر زیادہ دیر تک توجہ مرکوز نہیں رکھ پاتا۔ طلبہ کے لیے یہ مسئلہ خاص طور پر پریشان کن ہو سکتا ہے کیونکہ پڑھائی کے دوران مسلسل فوکس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر عینک درست نہ ہو تو مطالعہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور سیکھنے کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ عینک بذاتِ خود آنکھوں کو خراب نہیں کرتی، مگر غلط نمبر کی عینک کا طویل استعمال آنکھوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔ جب آنکھیں بار بار اس دباؤ کا سامنا کرتی ہیں تو بینائی مزید کمزور ہونے کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عینک صرف مستند معائنے کے بعد ہی استعمال کی جائے۔
کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ موجودہ عینک کا نمبر درست نہیں رہا۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو بار بار سر درد ہو، آنکھوں میں جلن یا تھکن محسوس ہو، یا کسی چیز کو دیکھتے وقت ایک آنکھ بند کرنے کی عادت پڑ جائے تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ عینک تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اگر رات کے وقت دیکھنے میں دشواری ہو یا روشنی کے گرد ہالہ سا نظر آنے لگے تو بھی فوری طور پر معائنہ کروانا ضروری ہو جاتا ہے۔
بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اگر وہ عینک کا استعمال کم کر دیں یا پرانی عینک ہی استعمال کرتے رہیں تو مسئلہ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ نظر کی کمزوری وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وقتاً فوقتاً آنکھوں کا معائنہ کروایا جائے تاکہ عینک کا نمبر ضرورت کے مطابق تبدیل کیا جا سکے۔
آنکھوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے چند سادہ احتیاطی تدابیر بھی اختیار کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنے والے افراد کو وقفے وقفے سے آنکھوں کو آرام دینا چاہیے۔ مناسب روشنی میں مطالعہ کرنا، متوازن غذا کا استعمال اور آنکھوں کو گرد و غبار سے بچانا بھی بے حد ضروری ہے۔ ان اقدامات سے آنکھوں کی مجموعی صحت بہتر رہتی ہے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ بچوں اور نوجوانوں کی بینائی کا باقاعدہ معائنہ ہونا چاہیے کیونکہ ابتدائی عمر میں نظر کی کمزوری بروقت تشخیص ہو جائے تو اسے بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکتا ہے۔ اگر بچے کو بار بار کتاب کے قریب ہو کر پڑھنے کی عادت ہو یا وہ بورڈ واضح طور پر نہ دیکھ پائے تو یہ نظر کی کمزوری کی علامت ہو سکتی ہے۔ ایسے میں والدین کو چاہیے کہ فوری طور پر ماہرِ چشم سے رجوع کریں۔
مختصر یہ کہ عینک انسان کی بینائی کو بہتر بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، مگر اس کا فائدہ اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب اس کا نمبر درست ہو۔ غلط نمبر کی عینک وقتی سہولت تو فراہم کر سکتی ہے، مگر طویل مدت میں یہ آنکھوں کی تھکن، سر درد اور دیگر مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آنکھوں کی صحت کو نظر انداز نہ کیا جائے اور باقاعدگی سے معائنہ کروایا جائے۔
اگر کسی شخص کو محسوس ہو کہ اس کی عینک کے باوجود نظر دھندلی ہے یا آنکھوں میں غیر معمولی دباؤ محسوس ہو رہا ہے تو اسے دیر نہیں کرنی چاہیے۔ فوری طور پر ماہرِ امراضِ چشم سے رجوع کر کے اپنی بینائی کا معائنہ کروانا چاہیے۔ درست نمبر کی عینک نہ صرف دیکھنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے بلکہ انسان کی زندگی کو زیادہ آسان، محفوظ اور پُرسکون بھی بنا دیتی ہے۔