BLOOD ON THE PRAYER MAT

اسلام آباد کی خوبصورت شاہراہوں پر آج کی صبح معمول کے مطابق طلوع ہوئی تھی۔ فروری کی خنک ہواؤں میں لوگ اپنے ہفتہ وار کاموں میں مصروف تھے، لیکن کسی کوTralai suicide attack
معلوم نہیں تھا کہ وفاقی دارالحکومت کے مضافاتی علاقے ترلائی کلاں میں موت اپنی بساط بچھا چکی ہے۔ دوپہر کے وقت جب ‘حی علی الصلوٰۃ’ کی صدائیں بلند ہوئیں اور لوگ جوق در جوق مسجد و امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ کی طرف بڑھنے لگے، تو کسے معلوم تھا کہ ان میں سے کئی اب کبھی اپنے گھروں کو لوٹ کر نہیں جائیں گے۔

Tralai suicide attack

قیامت کا وہ ایک لمحہ

جمعہ کی نماز کا دوسرا خطبہ جاری تھا، نمازی صفوں میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو چکے تھے۔ مسجد کا ہال نمازیوں سے بھرا ہوا تھا اور باہر کے صحن میں بھی تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ عین اسی وقت، جب اللہ کی بڑائی بیان کی جا رہی تھی، مسجد کے مرکزی آہنی گیٹ پر ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ یہ محض ایک آواز نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا مہیب شور تھا جس نے میلوں دور تک زمین کو ہلا کر رکھ دیا۔

عینی شاہدین کے مطابق، ایک نوجوان، جس نے کالی چادر اوڑھ رکھی تھی، تیزی سے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ دروازے پر موجود سیکیورٹی گارڈ نے جب اسے روکنے کی ہمت کی، تو اس درندے نے اپنی جیکٹ کا بٹن دبا دیا۔ ایک آگ کا گولہ بلند ہوا، اور سجدہ گاہِ الٰہی دیکھتے ہی دیکھتے مقتل گاہ میں تبدیل ہوگئی۔

قیامت کا وہ ایک لمحہ

لہو سے رنگین مسجد کا فرش

دھماکے کے بعد چند سیکنڈز تک ہر طرف موت جیسی خاموشی چھا گئی، جس کے بعد دھویں اور بارود کی بو کے درمیان سے چیخ و پکار کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔ مسجدTralai suicide attack
کا وہ خوبصورت فرش، جہاں چند لمحے پہلے ماتھے ٹیکے جا رہے تھے، اب خون سے تر تھا۔ شیشے کی کرچیاں، پنکھے، جوتے اور انسانی اعضاء ہر طرف بکھرے ہوئے تھے۔

"میں نے اپنی زندگی میں اتنا ہولناک منظر نہیں دیکھا،” 45 سالہ احمد نے روتے ہوئے بتایا، جن کا چھوٹا بھائی اس حملے میں زخمی ہوا۔ "ہر طرف لوگ ‘بچاؤ بچاؤ’ پکار رہے تھے۔ کوئی اپنے باپ کو ڈھونڈ رہا تھا تو کوئی اپنے معصوم بچے کو۔”

لہو سے رنگین مسجد کا فرش

ہسپتالوں کا حال: پمز میں دل خراش مناظر

Tralai suicide attack
دھماکے کے فوراً بعد ریسکیو 1122 اور ایدھی کی ایمبولینسوں کے سائرنوں نے پورے اسلام آباد کو سوگوار کر دیا۔ پمز (PIMS) ہسپتال کی ایمرجنسی میں وہ مناظر دیکھے گئے جو شاید کبھی فراموش نہیں کیے جا سکیں گے۔ 169 سے زائد زخمیوں کو جب سٹریچرز پر لایا جا رہا تھا، تو ہسپتال کی راہداریاں خون سے بھر گئیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق، اب تک 31 افراد کی شہادت کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں تین معصوم بچے اور دو بزرگ شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے 15 کی حالت تشویشناک ہے، جنہیں آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ہسپتال کے باہر سینکڑوں لوگ جمع تھے، جن کی آنکھیں اپنوں کی خیر کی خبر سننے کے لیے ترس رہی تھیں۔ جب بھی کسی لاش کو باہر نکالا جاتا، فضا آہوں اور سسکیوں سے گونج اٹھتی۔

ہسپتالوں کا حال: پمز میں دل خراش مناظر

سیکیورٹی پر سوالات: کیا یہ غفلت تھی؟

اسلام آباد جیسے ہائی سیکیورٹی زون میں، جہاں ہر کونے پر چیک پوسٹیں ہیں، ایک خودکش حملہ آور کا مسجد تک پہنچ جانا سیکیورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی پر بڑےTralai suicide attack
سوالیہ نشان کھڑے کر رہا ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک میں غیر ملکی وفود کی آمد و رفت جاری ہے اور دارالحکومت میں پہلے ہی سیکیورٹی الرٹ جاری تھا۔

پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور بظاہر پیدل آیا تھا، لیکن اسے کسی گاڑی نے قریبی لنک روڈ پر ڈراپ کیا ہوگا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق، خودکش جیکٹ میں تقریباً 6 سے 8 کلو بارود اور اسٹیل کے چھرے استعمال کیے گئے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔

سیکیورٹی پر سوالات: کیا یہ غفلت تھی؟

مذمتوں کا سلسلہ اور قوم کا غم

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، وہ صرف انسانیت کے دشمن ہیں۔ ہماری جنگ ان کے خاتمے تک جاری رہے گی۔”Tralai suicide attack
کے بارے میں دوسری طرف، برطانیہ کی سفیر جین میریٹ سمیت عالمی برادری نے بھی اس وحشیانہ فعل کی مذمت کی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض مذمتیں ان ماؤں کے لختِ جگر واپس لا سکیں گی؟ کیا یہ بیانات ان یتیم بچوں کے سر پر دستِ شفقت رکھ سکیں گے جن کے باپ آج مسجد کی دہلیز پر شہید ہو گئے؟

مذمتوں کا سلسلہ اور قوم کا غم

حرفِ آخر: ایک متحد جواب کی ضرورت

ترلائی کا یہ دھماکہ صرف ایک فرقے یا ایک شہر پر حملہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کی روح پر حملہ ہے۔ آج اسلام آباد کا آسمان اداس ہے اور ہر شہری کے دل میں ایک ہی سوال ہے: "کب تک؟”

دہشت گردوں نے مسجد کی حرمت کو پامال کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ خدا کو مانتے ہیں اور نہ ہی کسی انسانی قدر کو۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست اور عوام مل کر ان ناسوروں کے خلاف ایسا فیصلہ کن قدم اٹھائیں کہ دوبارہ کسی مسجد کا فرش نمازیوں کے خون سے رنگین نہ ہو۔

 ایک متحد جواب کی ضرورت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے